اردو شاعری | Urdu Poetry
خاموشی سے جب پھر جاؤ گے
تھوڑا چیخ لو ورنہ مر جاؤ گے
مرشد، دنیا سے ہی سیکھا ہے
Murshid, dunya se hi seekha hai
مرشد دنیا سے ہی سیکھا ہے
دنیا کسی کی نہیں ہوتی
مریضِ محبت کو فقط دیدار کافی ہے
ہزاروں طب کے نسخوں سے نگاہِ یار کافی ہے
Hazaron tib ke nuskhón se nigah-e-yaar kaafi hai
خود کو منوانے کا مجھ کو بھی ہنر آتا ہے
میں وہ قطرہ ہوں سمندر میرے گھر آتا ہے
Main woh qatra hoon, samandar mere ghar aata hai
تیری باتوں کو چھپانا نہیں آتا مجھ سے
تو نے خوشبو میرے لہجے میں بسا رکھی ہے
Tu ne khushboo mere lehje mein basa rakhi hai